Blog Literature Urdu

ہم محبت کے ہی پجاری ہیں

قطرہ قطرہ اشک

؎

اپنے چمن کی یہ تذلیل کیوں گوارہ کروں

ہر ایک شخص بولتا ہے دشمنوں کی طرح

؎

تم سے اک بار کہا تھا کہ تم اے میرے دل

میری نشانی میری زندگانی بھی ہو تم

؎

ہم محبت کے ہی پجاری ہیں

چاہے بتخانہ ہو یا میخانہ

؎

وہ رات بھر کا فسانہ غمگین کردے مجھے

وگرنہ شعر تیرا، تُو، تیرا فن جھوٹا ہے

؎

کتنے ظالم ہیں ستمگر میرے

خوں پی کر بھی خوش نہیں ہوتے

؎

پھول لو گے تو پھر تمہاری قسم

میں خود کو تجھ پہ نچھاور کردوں

؎

اپنی بات کہہ گیا ہوں

بس یہی میری خطا ہے

؎

تم اے وفا کے طلبگار ذرا دیکھو تو

دامنِ دل میں محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

؎

اب تو یوں ہے کہ معطر اکثر

کسی مفلس سے وفا کر بیٹھے

؎

ہم اُس وقفہ ماتم کو زہر کہتے ہیں

جس کو کچھ لوگ محبت کا قہر کہتے ہیں

؎

مجھے تنہائی میں کچھ کہنے دو

شامِ غم ہے یہ مجھے سہنے دو

؎

لذتِ غم سنوار دے گا مجھے

عاشق کہے گا، مار دے گا مجھے

؎

وہ محبت ہے ذلتوں کا کھیل

جس میں انسانیت نہیں ہوتی

؎

روشنی کی کرن ہے میری زندگی

میری جاں! میرا فن ہے میری زندگی

؎

بچھڑنا ہے تو پہلے سے کہو تم

ہمیں حالات کی پرواہ نہیں ہے

؎

خدا کرے کہ تو ہمیشہ میرے دل میں رہے

پھول میں خوشبو کی طرح، آنکھ میں آنسو کی طرح

؎

ہر بار تیرا وعدۂِ وصل فریب تھا

آنا نہ تھا تجھے، تو پھر وعدہ کیا تھا کیوں

؎

آنکھوں کو مَل رہا ہوں کہ نیندوں میں جا سکوں

رو رو کے سو بھی جاتا مگر دل اُداس ہے

؎

ٹکرا سکے نہ خود کو جو ساحل کی تار سے

میں اُس لہر کو موجِ بلا کہہ نہیں سکتا

؎

میں روز روز مروں اِس سے تو یہ بہتر ہے

کسی بیزار حقیقت کی پیروی کرلوں

؎

معطر کی جہاں تاریک سی ہے

مگر اِس میں ماہ و انجم بھی تو ہیں

؎

یہ غم اہلِ جہاں کچھ کم نہیں ہے

بظاہر مجھکو کوئی غم نہیں ہے

؎

واعظ شراب پی کے گنہگار نا ہوئے

ہم نے لیا جو نام تو بدنام ہوگئے

؎

شمع بنا گمنام تو دل نے کہا مجھے

بے نام و نمود تو جلنا ثواب ہے

؎

ادب شناس میرے دل کے رازداں ٹھہرے

وہ جانتے ہیں میں کیونکر کلام کرتا ہوں

؎

ہم نے تو سانپ بھی پالے ہیں آستینوں میں

کہیں کہیں تو یہ رسے بھی کام آتے ہیں

؎

صد بار بھی سنگسار کرو پھر بھی جانِ من

آؤنگا تیرے در پہ، تجھے پیار کروں گا

؎

خود فراموش معطر ہے دل

تجھکو خود سے عزیز رکھتا ہے

؎

لوگ تو پاگل بھی بنے محفلِ فرزانہ میں

کون کہتا ہے کہ دیوانہ میں۔۔۔۔۔

میں بلبلوں میں معطر عجیب بلبل ہوں

تہمتوں سے مجھے سنگسار کراتے جانا

ختم شد

۲۶ مارچ ۲۰۱۷

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started