Blog Literature Urdu

کب کہا تجھ سے کہ دولت دے دو

کب کہا تجھ سے کہ دولت دے دو

اپنے ہونٹوں کی حرارت دے دو

جیسا چاہو تم میں ڈھل جاؤنگا

مجھے گر تھوڑی سی مہلت دے دو

جس میں خلوص کی لذت بھی ہو

ایسی بیدار محبت دے دو

ہو جس سے دل میرا، ٹکڑے ٹکڑے

ایسے شیشے کو اک ضربت دے دو

میں نے تجھ سے نہیں چاہا ہے کچھ

بس چند لمحوں کی قربت دے دو

گر تجھ سے یہ بھی نہیں ہو سکتا

چلو پھر تھوڑی سی نفرت دے دو

غمِ حیات دور ہو کچھ دیر

مجھے ذرا سی تو فرصت دے دو

بھلادونگا تجھے قسم تیری

گر تم بے لوث محبت دے دو

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started