kalam e muattar
Urdu,  ادب,  بلاگ,  شاعری

حُسنِ مجبور بکا آج بھی بازار کے بیچ

حُسنِ مجبور بکا آج بھی بازار کے بیچ

لوگ بولی جو لگاتے رہے اغیار کے بیچ

آہ! وہ شاخِ بوسیدہ میرے دل ٹوٹ گیا

تھا جس پہ سبکو اعتبار سبھی اشجار کے بیچ

کون جلتا ہے، جلاتا ہے بے سبب واعظ

تم بھی دیکھو مجھے پھر تیغ و تلوار کے بیچ

دل کے بازار میں پھل پھول سبھی بِکتے ہیں

تم نے دیکھا ہے کبھی دل میرا اثمار کے بیچ

میں معطر کو کروں معاف یا کروں نہ کروں

وہ جو الجھا ہے ابھی مُلا اور میخوار کے بیچ

مخزنِ درد

Senior writer, author, and researcher at AromaNish, specializing in Psychology with an impact on information technology. As a writer, he writes about business, literature, human psychology, and technology, in blogs and websites for clients and businesses. Enjoys reading, writing and traveling when he is not here with us...

Leave a Reply

%d bloggers like this: