Literature,  Urdu

حسنِ مصنوعی

کچھ نظاروں میں کھو گیا ہوں میں

کچھ نظاروں نے گرفتار کیا

تیرے اِس حُسنِ مصنوعی کی خیر

جس نے ہر حسن سے بیزار کیا

تیری تہذیب نے کیا گھائل

تیری اداوں نے بیمار کیا

ہم نے بھی لاشعور میں چوما

جب بھی تو نے قریب رُخسار کیا

میں تو اِس بوجھ تلے مر کے جیا

تو نے جب حسن سے ایک وار کیا

تیری کچھ عادتیں بُری بھی ہیں

تیری زُلفوں نے بھی آزار کیا

خُدا کا شُکر، ملا مجھکو سخن

جس سے میں غم کو اشکار کیا

یہ معطر عجیب پاگل ہے

جس نے ظاہر سے بھی بیزار کیا

Leave a Reply