ادب,  اُردو,  شاعری

عشق کے ساتھ کام کرتے ہیں

عشق کے ساتھ کام کرتے ہیں

ہم تیرا احترام کرتے ہیں

جس قدر بھی تم روٹھ کر دیکھو

تیری یادوں میں شام کرتے ہیں

انتہا میں اُمید رکھتے ہیں

شیشے کو دل کا جام کرتے ہیں

ابھی یہ طے کرنا باقی ہے

کسے اُٹھ کر سلام کرتے ہیں

رات دن کام اک ہمارا ہے

دونوں ہی تیرے نام کرتے ہیں

چاہنا تجھ کو جرم ہے کیا دل

اس کا کچھ انتظام کرتے ہیں

آج سے اپنی معطر سانسیں

دیکھ لو تیرے نام کرتے ہیں

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply