ادب,  اُردو,  شاعری

تم اب آؤ تو کیا یا پھر جاؤ تو کیا

تم اب آؤ تو کیا یا پھر جاؤ تو کیا

جو بھی ہونا تھا وہ

اب تو ہو بھی چکا

یونہی خُود کو میرا

عادی تو نہ بنا

تم کو تکلیف، درد پھر نہ ہو جانانِ من

سوچو پھر سے ذرا

میں تیرے شہر کے

سبھی دردوں کا عادی ہوں کب سے بنا

میری صحرا جو عادی ہے صدیوں سے

میری بانسری کی نالوں سے مانوس ہے

تم سنو بھی تو کیا

نہ سنو بھی تو کیا

نہ سمجھوگی تشنہ لبی کو میری

پھر بھی سوچوں میں کیا؟

تیرا احساس دل سے وابسطہ ہے کیوں؟

گر یہ اک لفظ ہے تو

مجھ سے یوں جوڑا ہے کیوں

ہمارے بیچ نہ تو بحث نہ کوئی ہے قرار

تمہیں انکارِ محبت نہ مجھے ہے انکار

تم نے سوچا ہے محبت کی کمزوری ہے کیا؟

اس کے شدت میں، دلوں کی آزاری ہے کیا؟

سوچ لو خُوگرِ درد و زخم تم ہو کہ نہیں

پھر کسی یاد میں الجھے ہو اہم ہو کہ نہیں

تم معطر سے کہو میں اسے آذاد کروں

خانہ بربادِ محبت کا بھی دلشاد کروں

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply