kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

تم اب آؤ تو کیا یا پھر جاؤ تو کیا

تم اب آؤ تو کیا یا پھر جاؤ تو کیا

جو بھی ہونا تھا وہ

اب تو ہو بھی چکا

یونہی خُود کو میرا

عادی تو نہ بنا

تم کو تکلیف، درد پھر نہ ہو جانانِ من

سوچو پھر سے ذرا

میں تیرے شہر کے

سبھی دردوں کا عادی ہوں کب سے بنا

میری صحرا جو عادی ہے صدیوں سے

میری بانسری کی نالوں سے مانوس ہے

تم سنو بھی تو کیا

نہ سنو بھی تو کیا

نہ سمجھوگی تشنہ لبی کو میری

پھر بھی سوچوں میں کیا؟

تیرا احساس دل سے وابسطہ ہے کیوں؟

گر یہ اک لفظ ہے تو

مجھ سے یوں جوڑا ہے کیوں

ہمارے بیچ نہ تو بحث نہ کوئی ہے قرار

تمہیں انکارِ محبت نہ مجھے ہے انکار

تم نے سوچھا ہے محبت کی کمزوری ہے کیا؟

اس کے شدت میں، دلوں کی آزاری ہے کیا؟

سوچ لو خُوگرِ درد و زخم تم ہو کہ نہیں

پھر کسی یاد میں الجھے ہو اہم ہو کہ نہیں

تم معطر سے کہو میں اسے آذاد کروں

خانہ بربادِ محبت کا بھی دلشاد کروں

Leave a Reply