Literature Poetry Urdu

جب تیرے نام ہو گئی ہوگی

جب تیرے نام ہو گئی ہوگی

شہرتِ جام ہوگئی ہوگی

زندگی تب سے ہی تڑپتی ہے

جب میرے نام ہو گئی ہوگی

پھر یہ نشاط اے سرورِ جاں!

کب کی تمام ہو گئی ہوگی

تم نے بے اعتبار رہنا تھا

آنکھ جب جام ہو گئی ہوگی

تم نے بے وجہ انتظار کیا

رات تمام ہو گئی ہوگی

تم سراپا ناز ہو تو پھر

نظر الزام ہو گئی ہوگی

زُلف امروز کا تماشا ہے

خُود ہی بے دام ہوگئی ہو گی

ہم کو تم سے غرض نہ قسمت سے

جان گمنام ہو گئی ہوگی

جب معطر نے کچھ نہیں بولا

کیوں وہ بدنام ہو گئی ہوگی

۱۰ اگست ۲۰۱۸

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply