Blog Literature Urdu

ہاں جمال اس حسن کا دیکھا تھا جو اس آخرِ شب

ہاں جمال اس حسن کا دیکھا تھا جو اس آخرِ شب

ساری محفل میں میرا کوئی مددگار نہ تھا

میں شوقِ دید میں ڈوبا تھا کہ سحر ہو گئی

ربابِ دل میں کوئی ٹوٹا ہوا تار نہ تھا

شرابِ عشق کے جاموں پہ جام ملتے رہے

سحر کے بعد مجھے اسکا کچھ خمار نہ تھا

میکدہ بند، بند مسجد کے امام

ہو کے کافر بھی کوئی درپئے آزار نہ تھا

زر و زور چھوڑ، تخت و تاج پلٹ

سراپا باغی کوئی دار نہ تھا

آہ اور واہ کی مسافت ہے کیا

تڑپ ملا بھی تو کیا ہر بار نہ تھا

ہوں کسی دشتِ تنہائی میں

خود سے کبھی بھی واقفکار نہ تھا

تم معطر ہو یا کہ شاعر ہو؟

کل تک ہونٹوں پہ یہ گفتار نہ تھا

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply