ادب,  اُردو,  شاعری

جانے کھویا ہوں کن عذابوں میں

ابتلاؤں میں، اضطرابوں میں

جانے کھویا ہوں کن عذابوں میں

اُس کی عادت کوئی نہ مجھ جیسی

اُسے ڈھونڈوں کیا میں خرابوں میں

اُس کی دلکش نگاہوں کا ہے نشہ

جانے اور کیا ہے اِن شرابوں میں

خُود فراموش، سدا کا خموش

کب تک ڈھونڈوں اُسے نقابوں میں

یا کوئی مجھ سے، مجھ ہی کو چھینے

یا کوئی لائے اُس کو خوابوں میں

ہوش اب کب ہے؟ تہی دامانی

کہاں چھپتی ہے ان حجابوں میں

تم نے یہ سچ کہا کہ پاگل ہوں

کون چھپتا پھرے سرابوں میں

کیا معطؔر کو معاف کرنا ہے

یا اُسے پھر رکھیں، عذابوں میں؟
۲۰ دسمبر ۲۰۱۹

کراچی

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply