Blog Literature Urdu

جھوٹے روپ کے درشن

جھوٹے روپ کے درشن ماخوذ از راجہ انور

وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی

اُسے لمحے ستاتے ہیں

کسی سے کر چکے وعدے ستاتے ہیں

لیکن حقیقت میں

اُسے کھٹپُتلیوں کی فوج چاہیئے

وہ اکثر یہ بھی کہتی تھی

اُسی کی یاد آتی ہے

جو اپنی جان سے بڑھ کر

میری تکریم کرتا تھا

جو مجھ کو پوجتا تھا

جو مجھے تسلیم کرتا تھا

جہاں بھر کی حسیں لڑکی

لیکن حقیقت میں

نہیں تھا پیار وہ شاید

پتہ ہے یہ بھی کہتی تھی

تم میرے دوست ہو شاید

مگر مجھ کو یقیں ہے یہ

فریبی تھی وہ جھوٹی تھی

اُسے لوگوں کے جزبوں سے

فقط کچھ کھیلنا تھا بس

اُسے چاہت تھی دولت کی

اُسے چاہت تھی لوگوں کی

جو اُس کو چاہتے اور پوچھتے رہیں

اِشاروں پہ اُس کے ناچیں

یقیں کرو میرے اے دل

جو ایسے باوفا ہوں

اُن سے راہ و رسم کچھ رکھنا

طبیعت مان بھی لیتی تو دل یہ ٹوٹ سا جاتا

سُنی یہ بات میں نے ہے

تعلق بوجھ بن جائے

تو اُس کو توڑنا اچھا

وہ جگہ چھوڑنا اچھا

جہاں یوں سودے ہوتے ہوں

وہ اکثر مجھ سے کہتی تھی

ناتمام

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started