Urdu,  ادب,  بلاگ,  ذرائع ابلاغ

تیشہ فرہاد لکھنے کا سفر

تیشہ فرہاد مشہور ہے محبت کے لیے کوہ کنی یا ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے اور ساتھ ہی اپنی نابودی کے لیے، ایسے ہی لکھنے کی ابتدا مشہور ہے ابتدا میں غم جاناں اور پھرِ دوراں کے لیے۔ لکھنے کا سفر شروع ہوتا ہے احساسِ جنون سے، اندر کی توانا آواز سے کہ یہ کارِ تخلیق عبث نہیں۔

خالق کے لوحِ محفوظ سے لے کر وحی و الہام تک، انبیا کے وعظ و نصائح سے لے کر کتب و صحائف تک سب کچھ قلم کے کرشمے ہی تو ہیں۔ زندہ اور مردہ اقوام، تہذیبیں، شریعتیں، مذاہب اور ثقافتوں کا دار و مدار لکھنے سے ہی ہوتا ہے۔ آخری نبیﷺ کا زندہ معجزہ بھی الفاظ پر مشتمل ہے۔ اسی میں کلام کے خالق نے قلم کی قسم کھائی ہے اور کائنات کی تخلیق الفاظ سے مشروط کی ہے۔ کہ جب وہ کہتا ہے کہ ہو جا تو ہو جاتا ہے۔

کن فیاکون کے مالک نے اپنے نائب انسان کو بھی کچھ اپنے اخلاق سے متصف کیا ہے۔ تخلیق کا راز اس نے انسان کو دے کر واقعاً اپنا احسان اور ایمان ہر باضمیر انسان پر واجب قرار دیا ہے۔ اس ذمہ داری سے بہت کم لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ کہ شکر گزاری اور احسان مندی پاکیزگی اور اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔

سنتے آئے ہیں کہ جنابِ فرہاد شرین کے عشق میں پہاڑ کھود کر دودھ کی نہر نکالنے پر معمور ہوئے اور ناممکن کو ممکن بنا دینے کے بعد ایک نامراد کے جھوٹ کے زیرِ اثر وہی تیشہ اپنے سر مار بیٹھے اور یوں قصہ پاک ہوا۔

لکھنے کا فن بھی اسی قبیل کی چیز ہے۔ آپ ناممکن کو ممکن بنا ڈالتے ہیں اور آخر میں یہی قلم بغاوت کرکے آپ کا کام تمام کر دیتا ہے اور رہ جاتے ہیں تو فقط الفاظ۔۔۔ سوچتا ہوں آخر کیوں انسان نے الفاظ دریافت کیے پھر کہتا ہوں ایسا نہ ہوتا تو جانے کتنے ارمان سینوں میں ہی دفن ہو جاتے۔ نجانے کتنے خواب خاک ہو جاتے۔ نجانے کتنے جذبات سرد پڑ جاتے۔

الفاظ نہ ہوتے تو مائیں اپنے بچوں کو لوریوں میں کیا سناتیں؟ باپ بچوں کے لیے وراثت میں کیا چھوڑتے؟ حکومتیں عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے کیا استعمال کرتے اور مذہبی پیشوا اپنے پیروکاروں کو کیا تبلیغ کرتے؟ قانون طاقت کے علاوہ اور کس زبان میں بات کرتا؟ تجارت انسانیت کے ساتھ اپنے اقدار کا سودا کیسے طے کرتا؟

بہت سارے سوال ہیں مگر جواب کوئی نہیں۔۔۔ قلم تیشہ فرہاد ہے اس کا استعمال شاہ بھی بناتا ہے اور تختِ سیاہ بھی۔۔۔ اس سفر کے بارے میں، میں خُود تو کچھ نہیں کہونگا بس محسؔن نقوی کا شعر سنا کر رخصت ہونگا۔ محسؔن کہتے ہیں۔

؎

سناں کی نوک کبھی شاخِ دار پر محسؔن

سخنوروں کو مِلے ہیں مشقتوں کے صلے

Leave a Reply