kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

کب تک محبتوں کے صلیب پہ

کب تک محبتوں کے صلیب پہ

تم چِتا میری آہ! جلاؤ گے

آس ٹوٹتی جارہی ہے دل

کب تک اس کو تم آہ! بڑھاوگے

آنکھوں میری روشنی نہیں

کیا وہ دل سے میری چراؤگے

پھول تیرے کانٹے تو میرے ہیں

مجھے یہ بھی کیا تم بتاؤگے

میں ہوں خاک بسر دیوانہ

دشت سے کیا مجھکو بلاؤگے

آہیں اپنی مثلِ گوہراں

کیا یہ سینے میں ہی دباؤگے

ہوں جہنمِ بےکراں میں میں

کیا یہاں بھی تم ستم ڈھاؤگے

آتش و خوں کا بازار ہے

کیا تم اس میں مجھ کو جلاؤگے

خیر خواہ میرے کہتے ہیں سبھی

معطر کو کچھ تم سمجھاؤگے

مسکرا کے کہتا ہوں جانِ من

اسے کب میرے پاس لاؤگے

مخزنِ درد

Leave a Reply