Urdu

دسمبر، کچھ تو کمال ہے نا؟

دسمبر، کچھ تو کمال ہے نا؟

کمال ہے نا؟

کہ میری باہوں میں وہ نہیں ہے

نہ اُس کی باہیں، نہ اُس کی خُوشبو

نہ اُس کی آہیں، نہ کوئی خُو بُو

یہی بہت ہے، کمال ہے نا؟

کمال یہ ہے کہ اُس کی یادیں بھی بھول بیٹھے

ہم بھول بیٹھے کہ وہ کہاں ہے؟

کہ وہ جہاں ہیں، نہ ہیں ہمارے

نہ ہی ہم اُس کے

کمال ہے نا؟

وہ ساری باتیں، وہ جُھوٹی راتیں

وہ قسمیں، وعدے، وہ ساری یادیں

عبث ہی تھیں نا؟

کمال ہے نا؟

اب وہ کہیں بھی تو نہیں ہیں

آسماں میں، نہ اِس جہاں میں

نہ لا مکاں میں

نہ ابتداء میں، نہ انتہا میں

کہیں نہیں ہیں

کمال ہے نا؟

نہ اُس کی راہوں میں تازگی ہے

نہ اُس کی یادیں تلاشتی ہیں

نہ اس کی خوابوں میں آمد کوئی

ارادے، وعدے، قسم و رسمیں

سبھی بھلا دیں

کمال ہے نا؟

عجیب ہے نا

کہ جان کہہ کے پھر جاں چُھڑاؤ

بنا کے اپنا، دکھاؤ سپنا، پھر بھول جاؤ

اُسے بتاؤ کہ بھول جاؤ

مجھے جلاؤ، پھر گُنگُناؤ

کمال ہے نا؟

کمال یہ ہے، سوال یہ ہے

وہ جس کی آنکھوں میں ڈوب جاؤ

اُسے بتاؤ کہ بھول جاؤ

کمال ہے نا؟

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply