TO BILINDA
Urdu

دسمبر، کچھ تو کمال ہے نا؟

دسمبر، کچھ تو کمال ہے نا؟

کمال ہے نا؟

کہ میری باہوں میں وہ نہیں ہے

نہ اُس کی باہیں، نہ اُس کی خُوشبو

نہ اُس کی آہیں، نہ کوئی خُو بُو

یہی بہت ہے، کمال ہے نا؟

کمال یہ ہے کہ اُس کی یادیں بھی بھول بیٹھے

ہم بھول بیٹھے کہ وہ کہاں ہے؟

کہ وہ جہاں ہیں، نہ ہیں ہمارے

نہ ہی ہم اُس کے

کمال ہے نا؟

وہ ساری باتیں، وہ جُھوٹی راتیں

وہ قسمیں، وعدے، وہ ساری یادیں

عبث ہی تھیں نا؟

کمال ہے نا؟

اب وہ کہیں بھی تو نہیں ہیں

آسماں میں، نہ اِس جہاں میں

نہ لا مکاں میں

نہ ابتداء میں، نہ انتہا میں

کہیں نہیں ہیں

کمال ہے نا؟

نہ اُس کی راہوں میں تازگی ہے

نہ اُس کی یادیں تلاشتی ہیں

نہ اس کی خوابوں میں آمد کوئی

ارادے، وعدے، قسم و رسمیں

سبھی بھلا دیں

کمال ہے نا؟

عجیب ہے نا

کہ جان کہہ کے پھر جاں چُھڑاؤ

بنا کے اپنا، دکھاؤ سپنا، پھر بھول جاؤ

اُسے بتاؤ کہ بھول جاؤ

مجھے جلاؤ، پھر گُنگُناؤ

کمال ہے نا؟

کمال یہ ہے، سوال یہ ہے

وہ جس کی آنکھوں میں ڈوب جاؤ

اُسے بتاؤ کہ بھول جاؤ

کمال ہے نا؟

منفرد ادیب، شاعر، اور مصنف جس کے الفاظ میں فرد، سماج اور نفسیات کا ایک عجیب امتزاج ملتا ہے۔ انفرادی زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ سے نئے معنی و تعبیر بنا کر قاری کو مسحور کر کے بیخود کر دیتے ہیں۔ الفاظ سے جال بُنتا یہ لکھاری بیک وقت کئی زبانوں میں شعر و نثر کی آبیاری کے ساتھ سیاست و تجارت پر مبنی ہفتہ وار کالم ملکی اور بین الاقوامی اخبارات و رسائل و جرائد میں تواتر سے لکھ رہے ہیں۔ اِس ادارے کے ساتھ آپ کا رشتہ سالوں پر محیط ہے۔ اُمید ہے آپ لکھاری کے تمام کلام و فن پاروں کو پسند کریں گے۔ مصنف کی کتب برقی صورت میں صرف یہی ادارہ شائع کرتا ہے۔ کتب دیکھنے کے لئے ہمارے سٹور پر کلک کیجئیے۔ شکریہ