ادب,  اُردو,  شاعری

کھو گیا ہوں

کھو گیا ہوں، مجھے نہیں ملا

اپنا آپ، انتہائے ساغر بھی

میکشی، خُود کشی و خُود خُوشی

اُلجھتا جا رہا ہوں پھر سے میں

خُود کو بُھلا تو ہوں پر یاد ہے یہ

میں اِس بستی کا ہی باشندہ ہوں

گرچے بُھلا ہوں تیری صورت کو

ہے مگر یاد وہ

ملال آنکھیں، غزال پلکیں

جس پہ کہ فخر مصور بھی کرے

تیری جو بات ہے وہ دل میں پیوست

تیری جو یاد ہے وہ ذہن میں نقش

تیری ہر ایک ادا ہے یاد مجھے

مجھے ہے یاد وہ تعظیم و ریا

مجھے ہے یاد وہ نفرت و سزا

مجھے ہے یاد وہ اشکوں کی رات

مجھے ہے یاد وہ دن بھر کی تھکن

مجھے ہے یاد وہ دل شکن لمحے

جن کی تعزیر اب بھی جاری ہے

یہ دسمبر تھا جس میں مجھ سے ملیں

یہ دسمبر تھا جس میں بچھڑیں بھی

اِس دسمبر نے ملایا بھی ہمیں

اِس دسمبر نے کچھ کہا بھی ہمیں

رشتے جس پیڑپہ اُگتے ہیں ناں

اُس پہ ایک نام بھی ہمارا نہیں

کوئی الزام نہیں اور کوئی بدنام نہیں

دل تو بچہ ہے یونہی ضِد ہی کرے

مانگے مجھ سے تیرا چہرہ پھر سے

اک ہی ہے بس تقاضا اُس کا

یا تو ہاتھوں میں تیرا ہاتھ دیکھے

یا تو پھر زیرِ زمیں ہو جائے

دیکھو پھر شروع ہو گیا وہ قصہ

جو دسمبر میں تھا شروع و ختم

سوچ لوں کیا کسی کی باہوں کو

کھو ہی جاؤں کسی کی راہوں میں

اَن کہی، اَن سنی ہوئی تو ہے

یعنی تیری کمی تو تھی اور ہے

یعنی تم پہروں یادوں میں آؤ

یعنی تم ساحروں کی طرح سے

چھین لیتی ہو خواب سب میرے

کیا تمہیں بھی ہے یاد کوئی میری

میری یادیں بھی تم کو ڈستی ہیں؟

تجھ میں میری ہی یادیں بستی ہیں

کیا تمہیں یاد یے دسمبر وہ؟

جس میں کہ ساتھ ساتھ ہوتے تھے

جیسے برسوں میں نہ جُدا ہونگے

دیکھ لو ہوگئے جُدا نہ ہم؟

ایک دوجھے سے بے پروا، نہ ہم؟

تم کیا کہتی ہو، بڑی آنکھوں والی!

خواب اب جانے کس کے دیکھو تم؟

کس کے کندھے پہ سر رکھ کے روؤ؟

کس کی باہوں میں پاؤ ویسا سکوں

جو سکوں میری باہوں میں پایا؟

رہنے دو! امتحانِ زیست کے جواب

محشرِ دل کی منصفی گر تیرے ہاتھوں ہو

جل مروں گا، عذاب میں ہوں گا۔۔۔

جب تک تیرے خیال میں ہونگا

تیری آنکھوں کے جال میں ہونگا

کھو گیا ہوں مجھے نہیں ملتا

اب تو تیرا پتہ نہ اپنی خبر

جانتی ہو تم کچھ اس بارے میں

سنہری بالوں اور سبز آنکھوں والی!

Leave a Reply