Blog Literature Urdu

خدا سے

خدا سے

قفس کے بند دریچوں نے بتایا مجھکو

ساحلوں پر غمِ مفلس نے جلایا مجھکو

میں چھپ گیا تھا سکندر کے تازیانے سے

اتنا ڈرپوک بنایا تھا خدایا مجھکو

رہزنِ دین و وطن کو نہ روک پایا میں

اتنا کمزور بنایا، کیوں بنایا مجھکو

شورشِ باغی بھی خاموش تماشائی ہو

دشت اس شہر بے حسی سے ہے پیارا مجھکو

جب کبھی تنگ ہوا آتشِ زنداں سے میں

اپنے زنجیروں نے سینے سے لگایا مجھکو

کیسی آتش ہے معطر کے جگرِ گھائل میں

جس کے مرہمِ ظالم نے جلایا مجھکو

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started