Blog Literature Urdu

خدایا کب تک

خدایا کب تک

یہ جسم و روح کا عذاب کب تک

یہ ہے نظر کا سراب کب تک

یا تو سزا دے مجھے جلا دے

یہ بے خطا رب، حساب کب تک

میں تو اندھیروں سے ڈر رہا ہوں

یہ روشنی کا عذاب کب تک

یا رب دکھا دے تو سارے چہرے

ہر روز تازہ نقاب کب تک

خاموش ہو گی میری نوا کب

یہ تار ٹوٹا رباب کب تک

نہ روٹھا مجھ سے کوئی بھی بلبل

یہ میرا اضطراب کب تک

نگاہِ باغی کو کوئی بھی خیرہ

نہ کر سکے گا، حجاب کب تک

میری صدا بھی تیری صدا ہے

یہ میرا احتساب کب تک

میں جلوں تیرے ہاتھوں سے شیخ

یہی ہو تیرا نصاب کب تک

لہو سے میرے لکھو آذادی

نہ ہو موجوں میں اضطراب کب تک

لہوئے مظلوم، حیائے معصوم

تڑپتی ہو تو انتخاب کب تک

میں تیرے ہر نظام کا باغی

ظلمِ ظالم کا انتخاب کب تک

رہیں گے آنکھوں میں خواب کتنے

رہونگا دل کا نواب کب تک

الٰہی دے دے نجات مجھکو

وفا کا ہر ایک عذاب کب تک

نہ خواب و وہم و گمان میں تو

پھر ہوں سوال و جواب کب تک

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started