Blog Literature Urdu

خوشبو

خوشبو

جس نے بےلوث محبت دی ہے

آج اُس حسن نے دعوت دی ہے

میں نے ہر بار جسکو جھٹلایا

اس نے آج ایسی صداقت دی ہے

جسے چاہ کے بھی میں جھٹلا نہ سکوں

ایسے ہونٹوں کی حرارت دی ہے

جامِ خلوص پی سکا نہ میں

ایسے ہی عشق نے جرات دی ہے

نغمۂِ پرسوز اگر ہے تو

کیا ہوا میں نے بھی قیمت دی ہے

اپنے خلوص کی اور چاہت کی

شامِ غم کو بھی تو قربت دی ہے

میں معطر ہوں سراپا ورنہ

اپنی خوشبو کو محبت دی ہے

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started