Blog Literature Urdu

خواب خیرات میں نہیں ملتے

خواب خیرات میں نہیں ملتے

گر تیری ذات میں نہیں ملتے

سارے دلکش نظارے تیرے لیے

اب کسی رات میں نہیں ملتے

درد بھی تھم گیا رفتہ رفتہ

یہ ملاقات میں نہیں ملتے

کتنی بھی میکشی رہی اپنی

غم بھی تو مات میں نہیں ملتے

پہلے مل جاتے روشنی میں بھی

اب ظلمات میں نہیں ملتے

میرے پروانے، میرے دیوانے

اب خُرابات میں نہیں ملتے

روک لو قسمتِ حزیں ورنہ

یہ التفات میں نہیں ملتے

میکشو پی رہے ہو جام سے تم

ساقی کے ہات میں نہیں ملتے

گرچے آغوشِ محبت ہے وا

ہم ان نغمات میں نہیں ملتے

پھر معطر ہے پھر وہی باتیں

وہ کسی بات میں نہیں ملتے

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply