kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

خواب خیرات میں نہیں ملتے

خواب خیرات میں نہیں ملتے

گر تیری ذات میں نہیں ملتے

سارے دلکش نظارے تیرے لیے

اب کسی رات میں نہیں ملتے

درد بھی تھم گیا رفتہ رفتہ

یہ ملاقات میں نہیں ملتے

کتنی بھی میکشی رہی اپنی

غم بھی تو مات میں نہیں ملتے

پہلے مل جاتے روشنی میں بھی

اب ظلمات میں نہیں ملتے

میرے پروانے، میرے دیوانے

اب خُرابات میں نہیں ملتے

روک لو قسمتِ حزیں ورنہ

یہ التفات میں نہیں ملتے

میکشو پی رہے ہو جام سے تم

ساقی کے ہات میں نہیں ملتے

گرچے آغوشِ محبت ہے وا

ہم ان نغمات میں نہیں ملتے

پھر معطر ہے پھر وہی باتیں

وہ کسی بات میں نہیں ملتے

Leave a Reply