Blog Literature Urdu

کسی دن میں بھی روں گا

گریہ
کسی دن میں بھی روں گا
انا کا خُول اُترنے کا نام لے تو سہی
آنکھیں پتھرائی ہوئی
وحشت دل پہ ہے طاری
تجھ سے ملنے کا حوصلہ نہ رہا
تیرے بغیر کچھ اپنا نہ رہا
انا کیسی خُدائی ہے؟
یہ کیسی کبریائی ہے
نہ سانسیں اپنی ہوتی ہیں
نہ آنسو رو کے آتے ہیں
بِن روئے کیسے آنسو ہیں
مجھے معلوم ہو کیسے؟
میرے ہاں زندگی
عریاں ہی رقصاں ہے
رقاصہ رقص میں محو
میں آپ اپنا تماشائی
تمنا رقص کرتی ہے
دلِ بے تاب کی دھڑکن
جنون آمیز رقصاں ہے
مجھے جینے کے نام پر ہنسی ہے
ملال آنکھیں مجھے ہی ڈس رہی ہیں
مجھ میں یہ کیسی روحیں بس رہی ہیں
ہمیشہ دیر کرتا ہوں تو منتظر آنکھیں
تھک ہار کے سو جاتی ہیں
سُناہے نیند میں روتی ہیں میری آنکھیں بھی
اپنے خلاف کھڑا ہوں نجانے برسوں سے
بہت گلے ہیں، خُود سے، تم سے، زمانے سے
وہ دل میں ہے جو مکیں،
برسوں سے ملا بھی نہیں
پہلے خُدا تھا پر شاید
وہ اب خُدا بھی نہیں
تلاش ہے کسی ویرانے کی جس میں روؤں
یوں سینہ شق ہو کہ صحرا امان پائے نہیں
جو جام ہاتھ میں ہو اُس کو بھی لُٹائے نہیں
میں کہ رویا نہیں ہوں برسوں سے
کسی دن ٹوٹ کے رونا ہوگا

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply