Blog Literature Urdu

کسی کی یاد، ذہن میں عذاب کی سی ہے

’’نہ دل میں خون فراہم نہ اشک آنکھوں میں‘‘ فیض

کسی کی یاد، ذہن میں عذاب کی سی ہے

الجھ رہی ہے جو ہر شب کسی کی زلفوں سے

کسی کی بات، خزاں میں سراب کی سی ہے

جو مسکرائیں تو دل باغ باغ ہو جائے

بقولِ میر’’ لب پنکھڑی گلاب کی سی ہے

اور پھر ان نیم باز آنکھوں میں

ساری مستی شراب کی سی ہے‘‘

الفتِ شام زندگی ہے تمام

شدتِ غم نقاب کی سی ہے

ضبط گر کر کرا کے جی لوں تو

دل میں یہ سُر رباب کی سی ہے

سحر قریب، شبِ غم گزر ہی جائے گی

یہ آروز بھی معطر نواب کی سی ہے

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started