kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

کسی کی یاد، ذہن میں عذاب کی سی ہے

’’نہ دل میں خون فراہم نہ اشک آنکھوں میں‘‘ فیض

کسی کی یاد، ذہن میں عذاب کی سی ہے

الجھ رہی ہے جو ہر شب کسی کی زلفوں سے

کسی کی بات، خزاں میں سراب کی سی ہے

جو مسکرائیں تو دل باغ باغ ہو جائے

بقولِ میر’’ لب پنکھڑی گلاب کی سی ہے

اور پھر ان نیم باز آنکھوں میں

ساری مستی شراب کی سی ہے‘‘

الفتِ شام زندگی ہے تمام

شدتِ غم نقاب کی سی ہے

ضبط گر کر کرا کے جی لوں تو

دل میں یہ سُر رباب کی سی ہے

سحر قریب، شبِ غم گزر ہی جائے گی

یہ آروز بھی معطر نواب کی سی ہے

Senior writer, author, and researcher at AromaNish, specializing in Psychology with an impact on information technology. As a writer, he writes about business, literature, human psychology, and technology, in blogs and websites for clients and businesses. Enjoys reading, writing and traveling when he is not here with us...

Leave a Reply