Blog Literature Urdu

کچھ بھی اے دل سدا نہیں ہوتا

کچھ بھی اے دل! سدا نہیں ہوتا

دل میرا اب خفا نہیں ہوتا

کوئی کرے جفا اور یا پھر وفا

ہمسفر! کچھ دغا نہیں ہوتا

شاخِ قفس ہے بوسیدہ سا اب

سوزشِ دل سدا نہیں ہوتا

میرے ہاں بستیاں اجڑتی ہیں

پر کسی کو پتہ نہیں ہوتا

غم میرا غم نشیں ستارے ہیں

چاند جبھی پورا نہیں ہوتا

میرے گلشن میں گولیوں کے پھول

میرا ساقی زندہ نہیں ہوتا

لُوٹا مجھکو ہے رہزنوں نے آہ

بلبلِ من رہا نہیں ہوتا

میرے الفاظ ہیں میرے آنسو

اِنہیں مجھ سے گلہ نہیں ہوتا

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply