Urdu,  ادب,  کالم

تاریخ سے سیکھیئے

حکومتی واویلا سر آنکھوں پر پی ایم کا کہنا ہے کہ حکومت احتساب سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ لگتا یہی ہے کہ اس گناہ و ثواب کے چکر میں حکومت اور نوکرِ شاہی ایک دوسرے سے ذیادہ مستعدی دیکھا رہے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ انجام میں کیا گل کھلائے جاتے ہیں۔

قیامِ پاکستان سے لے کر دوامِ پاکستان تک احتساب ہی نظر آتا ہے۔ ہر آنے والے نے ہر جانے والے کا احتساب کیا ہے۔ سوائے خلائی مخلوق کے۔ جس کے قوت و اقتدار کو قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک کبھی زوال نہیں ہوا اور مستقبلِ قریب میں بھی اس کے کوئی آثار نہیں۔ اس کی وجہ اس ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے۔

نفسیات میں ایک اصطلاح ہے Learned helplessness یعنی سیکھی ہوئی بے چارگی یہ ایک تجرباتی واردات کی روداد ہے۔ لیبارٹری میں چوہوں کو پنجروں میں بند کیا گیا اور اُنہیں بجلی کے جھٹکے دئیے گئے اور انہیں راہ فرار بھی دکھائے گئے۔ پہلے ایک دو بار چوہوں نے راہ فرار اختیار کیئے۔ پھر دروازے بند کیے گئے اور بجلی کے جھٹکے دئیے گئے پہلے انہوں نے اچھل کود کی مانوس رستوں کو بھی تلاش کیا مگر راہ فرار نہ ملنے کی صورت میں مایوسی سے جدوجہد چھوڑ دیتے ہیں۔پھر پنجروں کے دروازے بھی کھولے گئے مگر انہوں نے کوئی کوشش نہیں کی۔ بس بجلی کے جھٹکے برداشت کرتے رہے مگر راہِ فرار نہیں کی۔

عوام بھی کچھ ایسے ہی حالت سے دوچار ہیں۔ صدیوں کے جبر و تشدد کے بعد آذادی ملی اور پھر انسانیت سے گرے ہوئے لوگ ایسے سروں پر چڑھے کہ اتارے نہیں جا رہے۔پچھلی کئی دہائیوں سے عوام ایک تازیانے سے دوسرے تازیانے تک، دار و رسن کی اس طویل کش مکش میں اس سیکھی ہوئی بے چارگی میں ہیں۔

راہِ فرار اب ہو بھی تو انہوں نے آذاد نہیں ہونا۔ کیونکے حالات و واقعات نے انہیں جبر و تشدد کے جو جھٹکے دئیے اور جو قید و بند میں مبتلا کیا۔ ان کے مطابق اب سیکھی ہوئی بے چارگی اور بے بسی مقدر کا لکھا ہے اور اسے سمجھ کر قبول کرلینا چاہیے۔ اور اس میں قباحت بھی کیا ہے۔ جب ایک غلام،غلامی کی ایک نئی قبا پہن لے تو اس کی حقیقت پہ کیا فرق پڑتا ہے۔

جو سچ کہیں تو عوام کو اب تک کے کسی بھی حاکم اور موجودہ حاکم کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ چہروں کا بدلاؤ نظام کا بدلاؤ نہیں ہوتا۔ تبدیلی اندر سے آتی ہے باہر سے نہیں۔ احتساب کا تعلق اندر سے ذیادہ ہوتا ہے بنسبت باہر کے۔ علم اور خوداگاہی ہی تبدیلی کے راز ہیں اور دنیا میں وہی قومیں سرفراز ہیں جو اِن رازوں کے ہمراز ہیں۔

اِس احتسابی ڈرامے میں ہدایتکار، اداکار اور فنکار ایک ہیں اس لیے اس سے خیر کی توقع رکھنا عقل کو گالی دینے کے مترادف ہے۔ دلِ شاعر اور عقلِ عالم کا تقاضہ یکساں ہے۔ تاریخ سے سیکھیئے۔ اور بس۔۔۔

Leave a Reply