kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

لوگوں کے سامنے کتنا سہما ہوا تھا وہ

لوگوں کے سامنے کتنا سہما ہوا تھا وہ

اور میرے ہاں تو رات بھر رویا ہوا تھا وہ

آہوں سے مضطرب ہے میرا دل نظر کے ساتھ

آہوں میں آج، روح تک ڈوبا ہوا تھا وہ

دھواں ہے دل میں، آتشِ سوزاں جگر میں ہے

موقع ملے تو دیکھوں، کیا جلا ہوا تھا وہ

میں اپنے اپ میں تھا تماشائی جس قدر

آخر آہ! اپنے آپ میں کھویا ہوا تھا وہ

میں خود میں آگیا ہوں میری جانِ تمنا

اتنی سی دیر میں مجھ سے روٹھا ہوا تھا وہ

اے شاعرِ غزل نوا، کتنا ستم ہے یہ

ہم آئے جب چمن میں تب گیا ہوا تھا وہ

محفل ہے دوستوں کی، معطر تم کچھ کہو

دیا تھا پھول میں نے جو بکھرا ہوا تھا وہ

Leave a Reply