Urdu,  ادب,  شاعری

حُسن بیزار جس کلی میں ہے

حُسن بیزار جس گلی میں ہے
عشق پائمال اُس گلی میں ہے
اُس سے گلہ ہو کس وجہ سے شیخ
تو کیوں بدحال اُس گلی میں ہے
زاہدوں کو وہ سب مبارک ہو
اپنی تو شام اُس گلی میں ہے
زندگی اتنی بیقرار نہیں
ابھی تو جام اُس گلی میں ہے
کسے تعزیر کرے اور کسے سولی دے
کیا اپنا نام اُس گلی میں ہے
زلف بے وجہ پریشان ہے کیوں

دلِ بدنام اُس گلی میں ہے
سارے دغے، انا، ستم بھی وہی
یہ بھی الزام اُس گلی میں ہے
کتنے کمیاب ہیں یہ اہلِِ قفس

یعنی ناکام اُس گلی میں ہے
کیا معؔطر ہیں سب پیرانِ ہوس
کتنے گمنام اُس گلی میں ہے

Leave a Reply