حُسن بیزار جس کلی میں ہے

حُسن بیزار جس گلی میں ہے
عشق پائمال اُس گلی میں ہے
اُس سے گلہ ہو کس وجہ سے شیخ
تو کیوں بدحال اُس گلی میں ہے
زاہدوں کو وہ سب مبارک ہو
اپنی تو شام اُس گلی میں ہے
زندگی اتنی بیقرار نہیں
ابھی تو جام اُس گلی میں ہے
کسے تعزیر کرے اور کسے سولی دے
کیا اپنا نام اُس گلی میں ہے
زلف بے وجہ پریشان ہے کیوں

دلِ بدنام اُس گلی میں ہے
سارے دغے، انا، ستم بھی وہی
یہ بھی الزام اُس گلی میں ہے
کتنے کمیاب ہیں یہ اہلِِ قفس

یعنی ناکام اُس گلی میں ہے
کیا معؔطر ہیں سب پیرانِ ہوس
کتنے گمنام اُس گلی میں ہے

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply