Blog,  اُردو

میں اب بھی تم کو نہ چاہوں تو اور کیا چاہوں

میں اب بھی تم کو نہ چاہوں تو اور کیا چاہوں

جو چاہوں یاد کو تجھ سے کروں وابسطہ میں

جو انتظار کے ہر اک سبب پہ سوچوں میں

جو امتحان کے ہر پہلو پر تماشا ہو

جب خواب رتجگوں کی تلاش کرتے ہوں

جب امتحان تیرے زلف و کاکل سا ہو

اک گیسو ہوں اک میں تل کا ہو نشہ

اک پائمال سا دل خانہ خرابی کا نشان

میں نے ہر دور کے انسان سے سنی یہ بات

عشق قاتل ہے مار دیتا ہے عشاق کو یہ

میں نے نہ مانی ، نہ مانی، تو یہ بات جانی ہے

کوئی محبوب مجھے مار کے کیوں خُوش ہوگا

کوئی زنجیر و سلاسل میں بندھے ہاتھ و پیر

کچھ ہلائے تو زندان بھی ہل جائیں گے

پھر بھی میں تم کو نہ چاہوں تو پھر کیا چاہونگا؟

جس کی خاطر جہاں سے جھگڑا ہے

جس کی خاطر ہم دار چڑھتے ہیں

جب بھی پوچھیں جب حال اپنا تو

ہم یہ کہتے ہیں حال اچھا ہے

اپنا ایسا زوال اچھا ہے

تیرا ایسا کمال اچھا ہے

خُود منصور دار پر لٹکے

خُود ہی شبلی دے دار کا فتویٰ

خُود ہی کیا قیس دربدر ہے کیا

در بدر کیا وہ خاک بسر ہے کیا

بس اک ہی راہ ہے بس راہِ نجات

بس اک ہی یاد سے وابسطہ میں

تجھے نہ چاہوں تو اور کیا چاہوں؟

Leave a Reply