Literature,  Urdu

میں خود کو بھول بیٹھا ہوں

مجھے مجھ سے ملاؤ نا

ذرا پھر سے جلاؤ نا

ذرا معلوم ہو مجھکو

میں زندہ ہوں میرے جاناں

مجھے محسوس کرنے دو

فریبوں میں گرا ہوں میں

مجھے اپنا حوالہ اب کہیں سے بھی نہیں ملتا

انا کیا، درد کا رشتہ ہے مجھ سے کیا

میں ہارا ہوں کبھی خود سے

جہاں سے بھی

نجانے کیوں میرا دل اب بھی نہ مانے اسے اپنا

یہ کہتا ہے

بلااخر اسے ہی جیتنا ہے

بازیگر ہے یہ

مجھے اب بھی یہ سانسیں ڈوبتی محسوس ہوتی ہیں

نجانے کیوں یہ ناطہ پھر بھی مجھ سے جوڑے رکھتی ہے

میرے ہاں زندگی محدود ہے۔۔۔

کتابیں، خواب میرے اور تنہائی میرے ہمدم

میرا دل بار بار یونہی دھڑکتا ہے

میں ہارا ہوں، میں ہارونگا

مگر نہ ہار مانوں گا

میری فطرت نہیں خوگر

کسی بھی پسپائی سے

نجانے کیا ہے جو مجھکو

سدا خموش رکھتا ہے

یہ کیا ہے جو مجھے ہر رقص میں شامل کرے ہر دم

یہ کیا ہے جو مجھے رکنے نہیں دیتا

مجھے کہنے نہیں دیتا

ادھورے اَن کہے قصے

میں تھکتا جارہا ہوں

خود سے کہاں بھاگوں

مجھے میری ہی سوچیں ڈستی ہیں

آزار دیتیں ہیں

میں خود کو بھول بیٹا ہوں

مجھے مجھ سے ملاؤ نا۔۔۔۔

   

Leave a Reply