Urdu,  ادب,  شاعری

میں تو خواب دیکھتا ہوں

کیسے تم سے میں جدا ہوں

تو میرا ہے میں تیرا ہوں

میں تو خواب دیکھتا ہوں

اِس چمن سے میرا رشتہ

تیرے واسطے ہی تو ہے

تیرے واسطے جہاں سے

سارے واسطے عبث ہیں

کوئی اَن دیکھی ادا کیا

کوئی اَن سنی صدا کیا

میرے واسطے جہاں کیا

تیری راہ دیکھتا ہوں

میں تو خواب دیکھتا ہوں

کیا تعبیر میں الجھنا

کیا تاثیرِ الفت و غم

کیوں ہو آنکھ ہر دم پر نم

ہر قدم پہ ڈھونڈتا ہوں

میں تو خواب دیکھتا ہوں

اَن کہی رہی حکایت

مجھے تجھ سے کیا شکایت

کر کبھی کبھی عنایت

تجھے خود میں کھو چکا ہوں

میں تو خواب دیکھتا ہوں

اب تیری طلب نہ خود کی

اب صبر و شکر بے معنی

جانے خود سے کیا کہتا ہوں

میں تو خواب دیکھتا ہوں

Leave a Reply