kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

میں زمیں پر بھی رہا ہوں تو ہواؤں جیسے

میں زمیں پر بھی رہا ہوں تو ہواؤں جیسے

دور سے دیکھتا ہوں، تجھ کو خلاؤں جیسے

گرچے خموش ہوں، نہ بولا میں

رکھتا ہوں زیست صداؤں جیسے

کہتے سب لوگ ہیں عاجز مجھکو

رکھتا ہوں ناز خداؤں جیسے

کتنا بیزار ہوں زمانے سے

اپنی بیزار نگاہوں جیسے

پینے بیٹھوں تو میخانے سارے

توڑ دیتا ہوں میں پیاسوں جیسے

Leave a Reply