sorrow
شاعری

میں زندگی سے گر اس طرح ہی جدا رہوں گا تو کیا کروں گا

Spread the love

میں زندگی سے گر اس طرح ہی جدا رہوں گا تو کیا کروں گا؟

کسی کی خاطر جہاں سے یونہی لڑا کروں گا تو کیا کروں گا؟

عبث تھا یہ بھی محبتوں میں، عبث تھا وہ بھی رفاقتوں میں

میں اسطرح سے جیا کروں گا تو کیا کروں گا؟

جہاں سے بیزاری بھی اٹل ہے، طبیعت یونہی کیوں مشتعل ہے

گراں طبیعت پہ میں رہوں گا تو کیا کروں گا؟

ابھی بھی راہیں کھلی ہیں اپنی، ابھی بھی باہوں کی نہ کمی ہے

میں یوں اکیلا، تنہا جیوں گا تو کیا کروں گا؟

اگر یہی حیات ہے اپنی، اگر یہی ہے نجات اپنی

یوں اسطرح سے میں گر پیونگا تو کیا کروں گا؟

چلو یہ سب تو بس ہیں معطر تم اپنی راہیں نہ چھوڑ پائے

اگر میں ایسے ہی نہ رہونگا تو کیا کرونگا؟

Leave a Reply

%d bloggers like this: