ادب,  اُردو,  شاعری

مخزنٍ درد

زندگی کے حاصل یہ

لفظ سارے میرے ہیں

پیش لفظ

ے زندگی اک ستائے ہوے طائر کی طرح

پھڑ پھڑاتی رہی تاریخ کے زنجیروں میں

(سید مصطفیٰ حسین زیدی)

اپنے بارے میں، ایک جنگلی پرندہ ہوں۔ جس کے پاس گانا ہے اور جسے گانا ہے۔ مجھے اس سے کوئی لگاو نہیں کہ اِس جنگل میں مجھے کوئی سنتا ہے یا میں فقط خود سے مخاطب ہوں۔

مجھے لگتا ہے اِتنا ہی کافی ہے۔

معطر

 30 December 2016

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply