Literature,  Urdu

محفلِ ہستی

روشنی چاند ستاروں میں گرفتار رہے

اور میرے دیس کی گلیوں میں شبِ تار رہے

یہ اندھاپن میرے چمن کی ہے تقدیر کیوں

یہ روشنی ہے بس کچھ لوگوں کی جاگیر کیوں

نغمہ پردرد نہ ہو، اس میں ہو تاثیر کیوں

میرے گلے میں ہو غلامی کی زنجیر کیوں

میرے لہو سے لکھی ہو میری تحریر کیوں

میری آہوں سے ہو الٹی میری تدبیر کیوں

یہ غلامی کیا ضروری ہے زندگی کے لیے

خود اسیری کیا ضروری ہے خودی کے لیے

خودی کی موت ہے آزارِ بندگی کے لیے

کیا میرے پیار کی وقعت ہے اس باغی کے لیے

جو ڈھونڈتا ابھی پھرتا ہے روشنی کے لیے

میری بے زار حقیقت کی تازگی کے لیے

کسی کے ظلم سے ڈرتا نہیں جو مردِ کرار

میرے نغمے ہیں فقط محفلِ ہستی کے لیے

Leave a Reply