Blog Literature Urdu

میں زمیں پر بھی رہا ہوں تو ہواؤں جیسے

میں زمیں پر بھی رہا ہوں تو ہواؤں جیسے

دور سے دیکھتا ہوں، تجھ کو خلاؤں جیسے

گرچے خموش ہوں، نہ بولا میں

رکھتا ہوں زیست صداؤں جیسے

کہتے سب لوگ ہیں عاجز مجھکو

رکھتا ہوں ناز خداؤں جیسے

کتنا بیزار ہوں زمانے سے

اپنی بیزار نگاہوں جیسے

پینے بیٹھوں تو میخانے سارے

توڑ دیتا ہوں میں پیاسوں جیسے

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started