مینہ خو سور اور دے او پیغور دے

مینہ خو سور اور دے او پیغور دے

حسن خُو یوسف دے خو کمزور دے

عشق دہ عقل پلار دے خُو بیزار دے

مینہ دہ ذات مور دے خُو سور اُور دے

زا دہ مُلا کور تہ زہ بیزار یم تے

زہ خُو میکدہ لاسہ ازار یم تے

جام دہ ڈک شرابوں نا عطا کا بیا

حُسن دہ میخوارو نہ جدا کا بیا

مینہ دہ مجنون پہ شان عطا کا بیا

حُسن دہ لیلیٰ بس راخکارا کا بیا

اے دا کائناتوں کل سلطانا تہ

مینہ راکا، بخت راکا، وفا راکا

عشق راکا، شرابِ طہورا راکا

حُسن دہ یوسف، عشق دہ موسیٰ راکا

مینہ محمدؐ راکا، زہٌرا دہ کور حیا راکا

اے خالقا! درد دہ علیٌ، حُسٌین لاسہ شفا راکا

ما ہم معطر کہ دہ علیٌ دہ کردار بُو سارا

حُسن چہ طالب وی عشق دریا راکا

صاحبِ طرز ادیب، شاعر اور نفسیات دان علی معطر الفاظ سے کھیلنے اور اُنہیں جھیلنے کے عادی ہیں۔ عام زندگی میں جس کی خاموشی ورطہ حیرت میں ڈالتی ہے۔ جب لکھنے پہ آتے ہیں تو الفاظ ہاتھ باندھے قطار اندر قطار نظریات و افکار کے انبار لگا دیتے ہیں۔ نظم و نثر، اُردو، انگریزی اور پشتو زُبان میں بیک وقت لکھنے والے اس بمثال بیتاب روح کے حامل لکھاری سے ہمیں عظیم تخلیقات کی توقع ہے۔ اور اُس نے ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں کیا اور اُمید ہے آگے بھی نہیں کریں گے۔ خوابوں میں اور خوابوں کے لیے جینے والے اس ادیب کے الفاظ میں حقیقت کی کاٹ اور سماج کی پرکھ آپ کو الفاظ کے تقدس کی یاد دلانے کے لیئے کافی ہیں۔ ملاحظہ ہو کہ وہ مزید کیا لکھتے ہیں۔

Leave a Reply