مرے اس رک کے مر جانے سے وہ غافل ہے کیا جانے

مرے اس رک کے مر جانے سے وہ غافل ہے کیا جانے

گذرنا جان سے آساں بہت مشکل ہے کیا جانے

کوئی سر سنگ سے مارو کسی کا واپسیں دم ہو

وہ آئینے میں اپنے ناز پر مائل ہے کیا جانے

نظر مطلق نہیں ہجراں میں اس کو حال پر میرے

مرا دل اس کے غم میں گویا اس کا دل ہے کیا جانے

جنونی خبطی دیوانہ سڑا کوئی عشق کو سمجھے

فلاطوں سے نہیں یاں بحث وہ عاقل ہے کیا جانے

تڑپنا نقش پائے ناقہ پر جانے ہے اک مجنوں

بیاباں میں وہ لیلیٰ کا کدھر محمل ہے کیا جانے

پڑھایا اس کو بہتیرا کہ مت لا راز دل منھ پر

پہ طفل اشک کو دیکھا تو ناقابل ہے کیا جانے

طرف ہونا مرا مشکل ہے میرؔ اس شعر کے فن میں

یوہیں سوداؔ کبھو ہوتا ہے سو جاہل ہے کیا جانے

Leave a Reply