شاعری

مرے اس رک کے مر جانے سے وہ غافل ہے کیا جانے

Spread the love

مرے اس رک کے مر جانے سے وہ غافل ہے کیا جانے

گذرنا جان سے آساں بہت مشکل ہے کیا جانے

کوئی سر سنگ سے مارو کسی کا واپسیں دم ہو

وہ آئینے میں اپنے ناز پر مائل ہے کیا جانے

نظر مطلق نہیں ہجراں میں اس کو حال پر میرے

مرا دل اس کے غم میں گویا اس کا دل ہے کیا جانے

جنونی خبطی دیوانہ سڑا کوئی عشق کو سمجھے

فلاطوں سے نہیں یاں بحث وہ عاقل ہے کیا جانے

تڑپنا نقش پائے ناقہ پر جانے ہے اک مجنوں

بیاباں میں وہ لیلیٰ کا کدھر محمل ہے کیا جانے

پڑھایا اس کو بہتیرا کہ مت لا راز دل منھ پر

پہ طفل اشک کو دیکھا تو ناقابل ہے کیا جانے

طرف ہونا مرا مشکل ہے میرؔ اس شعر کے فن میں

یوہیں سوداؔ کبھو ہوتا ہے سو جاہل ہے کیا جانے

Leave a Reply

%d bloggers like this: