Urdu,  ادب,  شاعری

میری آنکھوں کی ٹھنڈک

سنو ایسا تم مت کرنا

تیرے آنسو بہانے سے مجھے تکلیف ہوتی ہے

مجھے تم سے محبت ہے

سنو یہ جانتی ہو تم

تو پھر کس بات پہ آنسو بہاتی ہو؟

تم یہ بھی جانتی ہو کہ

میں تیرا جنموں کا ساتھی ہوں

کہ تم بِن میں ادھورا ہوں

تمہیں احساس ہوگا تب

کہ جب میں موت کی آغوش میں سر رکھ کے سو جاؤں

یا غم لے کر تمہارے شہر میں اس طرح کھو جاؤں

کہ مجھکو ڈھونڈنا چاہو بھی

تو پھر بھی نہ ڈھونڈ پاؤ

سنو جاناں! بہت انمول ہو تم

ساری دنیا تیرے قدموں میں رکھوں پھر بھی

تیرے اک مسکراہٹ کے بھی مول میں بھر نہیں سکتا

میری جاں!

تم اکیلی ہو تو پھر اچھا نہیں لگتا

لیکن یہ بھی حقیقت ہے۔۔۔

تم میری ہو نہیں سکتیں

میری خوابوں میں آکر تم

میری باہوں میں آکر تم

بکھر کے سو نہیں سکتیں

کہ میں اک اجنبی اور تم

میری خوابوں کی رانی ہو

اور تم یہ جانتی ہو

خواب تو بس خواب ہوتے ہیں

کہ جنکا

حقیقت کے کسی گوشے سے تعلق ہو نہیں سکتا

کہ اب میں رو نہیں سکتا

کہ سارے خواب آنکھوں کے اب بہہ ہی نہ جائیں

خلش جو دل میں ہے میری

کہیں وہ رہ ہی نہ جائے

ادھوری رات کے قصّے

ادھورے رہ نہیں پاتے

تم کسی اور کی ہو جاؤ

تو یہ ہم سہہ نہیں سکتے

قسم تیری اے میری جان!

تیری آنکھوں میں جب سے ڈوب کے

ہم پھر سے نکلے ہیں

بہت کمزور لگتے ہیں

دلِ پرشور رکھتے ہیں

شکایت کون کرتا ہے؟

مجھے جو بھی اذیت دو

میں ہنستا جاؤنگا

اور مرتے مرتے اتنا کہہ دونگا

میری جاں! میری قسمت میں

نہیں بوسا

تیری آنکھوں کا، ماتھے کا

لب و رخسار و تِل کا

آئینے میں کھڑے ہو کر

تم اپنا بوسا لے لینا

میں سمجھونگا

وہ بوسا لے لیا میں نے

جو کب سے میری حسرت تھی

بُرا لگتا ہے نا تم کو

میرا یوں پیار کرنا بھی

کہ میں صحرائی ہوں مجھکو

نہیں معلوم یہ بھی تو

کہ شہری کس طرح سے پیار کا اظہار کرتے ہیں؟

عجیب معصوم سی باتیں

بہت خاموش ہیں راتیں

مجھے تیری ضرورت ہے

سنو خوابوں میں آجاؤ

یوں باہوں میں سما جاؤ

مجھے محسوس کرنے دو

ادھورا کب، کہاں ہوں میں

تیرے آنے سے میری جان

میری تکمیل ہو جائے

بتاؤ آؤگی نا تم؟

بتاؤ آؤگی نا تم؟

Leave a Reply