kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

میری یادوں کے آس پاس رہے

میری یادوں کے آس پاس رہے

میرے وعدوں سے وہ اُداس رہے
اُنکے غمدیدہ سے نگاہوں میں
نم تھے، سوال تھے، احساس رہے
آخرش پہنچ بھی جائے گا سحر
خواب بے وجہ ہی اُداس رہے
ابرِ آنسو ہیں سوگوار سے آج
میرے حرفِ ندا اداس رہے
نغمۂِ شب نہ چھیڑو اے بلبل
ٹوٹ جاتا ہے کچھ تو آس رہے
جان دینا وہ بھی صحراؤں میں
بے خطا ہو کے بے اساس رہے
تم معطر کو یہ سمجھاؤ نا
کبھی کبھار تو میرے پاس رہے

Leave a Reply