kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

میری یادوں کے آس پاس رہے

میری یادوں کے آس پاس رہے

میرے وعدوں سے وہ اُداس رہے
اُنکے غمدیدہ سے نگاہوں میں
نم تھے، سوال تھے، احساس رہے
آخرش پہنچ بھی جائے گا سحر
خواب بے وجہ ہی اُداس رہے
ابرِ آنسو ہیں سوگوار سے آج
میرے حرفِ ندا اداس رہے
نغمۂِ شب نہ چھیڑو اے بلبل
ٹوٹ جاتا ہے کچھ تو آس رہے
جان دینا وہ بھی صحراؤں میں
بے خطا ہو کے بے اساس رہے
تم معطر کو یہ سمجھاؤ نا
کبھی کبھار تو میرے پاس رہے

Senior writer, author, and researcher at AromaNish, specializing in Psychology with an impact on information technology. As a writer, he writes about business, literature, human psychology, and technology, in blogs and websites for clients and businesses. Enjoys reading, writing and traveling when he is not here with us...

Leave a Reply

%d bloggers like this: