Ghazlyat e Mir taqi mir
Literature,  Urdu,  ادب,  شاعری

Ghazlyat e Mir

جس جگہ دور جام ہوتا ہے

واں یہ عاجز مدام ہوتا ہے

ہم تو اک حرف کے نہیں ممنون

کیسا خط و پیام ہوتا ہے

تیغ ناکاموں پر نہ ہر دم کھینچ

اک کرشمے میں کام ہوتا ہے

پوچھ مت آہ عاشقوں کی معاش

روز ان کا بھی شام ہوتا ہے

زخم بن غم بن اور غصہ بن

اپنا کھانا حرام ہوتا ہے

شیخ کی سی ہی شکل ہے شیطان

جس پہ شب احتلام ہوتا ہے

قتل کو میں کہا تو اٹھ بولا

آج کل صبح و شام ہوتا ہے

آخر آؤں گا نعش پر اب آ

کہ یہ عاشق تمام ہوتا ہے

میرؔ صاحب بھی اس کے ہاں تھے پر

جیسے کوئی غلام ہوتا ہے

Leave a Reply