Blog Poetry

Misuse Of Blasphemy Law And Justice

ناموس کے جھوٹے رکھوالو

بے جرم ستم کرنے والو

کیا سیرت نبوی جانتے ہو؟

کیا دین کو سمجھا ہے تم نے؟

کیا یاد بھی ہے پیغام نبی؟

کیا نبی کی بات بھی مانتے ہو؟

یوں جانیں لو، یوں ظلم کرو

کیا یہ قرآن میں آیا تھا؟

اس رحمت عالم نے تم کو

کیا یہ اسلام سکھایا تھا؟

لاشوں پہ پتھر برسانا

کیا یہ ایمان کا حصہ ہے؟

الزام لگاؤ مار بھی دو؟

دامن سے مٹی جھاڑ بھی دو؟

مسلماں بھی کہلاؤ اور پھر

ماؤں کی گود اجاڑ بھی دو؟

تم سے نہ کوئ سوال کرے؟

نہ ظلم کو جرم خیال کرے؟

اس دیس میں جو بھی جب چاہے

لاشوں کو یوں پامال کرے؟

لیکن تم اتنا یاد رکھو

وہ وقت بھی آنا ہے

ہے جس کے نام پہ ظلم کیا

اس ذات کے آگے جانا ہے

اس خون ناحق کو کو پھر وہ

میزان حشر میں تولے گا

وہ سرور عالم محسن جاں

تم سے اتنا تو بولے گا

اے ظلم جبر کے متوالو

تم حق کے نام پہ باطل ہو

تم وحشی ہو تم قاتل ہو

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started