Literature,  Urdu

محبت کے گیت

میرے ٹوٹے ہوئے لفظوں سے محبت کے گیت

بن تو سکتے ہیں مگر گیت تراشوں کیوں کر

جن کو چاہا محبت کے حسیں لمحوں میں

جاچکا، دور بہت دور، اُفق سے بھی پرے

اب بتا تو ہی، کس کی آنکھوں کو ساغر لکھوں؟

کس کی خاطر میں شامِ غم کا قصیدہ لکھوں؟

کسے کافر کہوں اور کسے میں سنگسار کروں؟

کون مقصود بنے، کسے میں آزار کروں؟

کسے خوابیدہ کروں اور کسے بیدار کروں؟

کسے لفظوں سے جلاؤں، کسے خودار کروں؟

کیا کوئی ہے جو مجھے یوں ہی سرِدار کرے؟

میری گفتار بنے یا مجھے کردار کرے

اَن کہی باتوں کے مفہوم سے بیزار کرے

جو میرے اِنہی جنون خیزی کی تکرار کرے

اَن سنی باتیں بھی سمجھائے دل کے تاروں کو

کوئی تو ہو جو میرے لفظوں سے بھی پیار کرے

Leave a Reply