kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

اب تو خوابوں پہ اعتبار نہیں

اب تو خوابوں پہ اعتبار نہیں

تیری خُوشبو سے بھی ڈر لگتا ہے

تیرے آہوں سے امن مانگا یے

تیرے سپنوں نے نیند چھینی ہے

اب تو خوابوں پہ اعتبار نہیں

جاگتی ہو تو کس کے لیے تم

کس کی خاطر آنسو بہاتی ہو

کس واسطے مجھے بلاتی ہو

سچ بتاؤں تو تم سے پیار نہیں

درد دینا میرا شعار نہیں

اب تو خوابوں پہ اعتبار نہیں

کس لیے میرے خواب دیکھو تم

کس لیے خود کو تم اذیت دو

کس لیے روشنی کی طالب ہو

تم میری زندگی کی طالب ہو

مرنے نہ دو مجھے تم باہوں میں

اب تو خوابوں پہ اعتبار نہیں

کیا میری خوابوں میں کروگی تم

تمہیں کیونکر سمجھ نہیں آتی

تمہیں احساس کیوں نہیں اس کا

ہم بہت دور نکل آئے ہیں۔۔۔۔

اب تو خوابوں پہ اعتبار نہیں

تم نے کس چاہ سے مانگا تھا مجھے

اور کس شدت سے اپنایا تھا مجھے

پھر کس قوت سے مجھ سے نفرت کی

پھر کس جرأت سے مجھ پر لعنت کی

دیکھ لو مجھکو میں وہیں پر ہوں

تم کہاں ہو، ذرا بھی سوچا ہے

اب تو خوابوں پہ اعتبار نہیں

تم بھی شاید کہ تھک گئی ہوگی

میں بھی ایسے ہی تھک گیا تھا تب

جب تمہیں اپنا بنایا تھا تب

ایسے ہی کرب سے گزرا تھا میں

ایسے ہی درد کو سہا تھا میں

شاید احساس تمکو ہو اس کا

تیری خاطر کتنا لڑا تھا میں

خود سے، جہان سے اور اپنوں سے

کتنے شدت سے ہی لڑا تھا میں

دیکھو اب خواب ہو گئی ہو تم

سمجھو کہ خواب ہو گیا ہوں میں

اب تو خوابوں پہ اعتبار نہیں

تیرے وعدوں پہ، یادوں قسموں پہ

اس جہان کے اِن سارے رسموں پہ

اب کسی پہ بھی اعتبار نہیں

سن لو مجھ کو اب تم سے پیار نہیں۔۔۔

Leave a Reply