Literature,  Urdu

مکالمہ

ایک رات میرے اور میرے دوست سید علی احمد کے بیچ مندرجہ ذیل مکالمہ ہوا۔ شاعر سے مراد معطر علی ہے۔
:شاعر
میں تو وحشی ہوں یہاں درد ہے تنہائی ہے
:علی احمد
تیرے سینے میں بجھی عشق کی رعنائی ہے
:شاعر
کیا کروں عشق فقط بے حس تماشائی ہے
:علی احمد
زندگی جینی ہے اب بھی، وہی خدا ہے یہاں
آج کیوں تو نے پھر مرنے کی قسم کھائی ہے
:شاعر
یہ میرے عشق کی لذت کہ ہے تنہائی میری
جسمیں خاموش میرا دل بھی اور خدائی ہے
:علی احمد
اور مجھے خاموش ہوجانا ہے لالہ کے گلستانوں میں
میرے قاتل نے یہی شرط جو ٹھرائی ہے
:شاعر
موت تو ایک نام ہے حیاتِ جاودانی کا
میرے لیے تو یہاں درد ہے تنہائی ہے
:علی احمد
اگر یہ بات ہے تو کیوں ہے تماشائے جہاں
کیا فقط موت کی خاطر طبع آزمائی ہے
:شاعر
نقشِ دل ہو گر مندر، مسجد و کلیسہ
فقط اک رقص کے لیے یہ جہاں آرائی ہے
:علی احمد
شمع جو جلتی رہی جھل کے اندھیروں میں
ذرا سی تیز ہوا سے کیوں پھڑپھڑائی ہے
:شاعر
شورشِ دل ہے کہیں اور کہیں نغمۂِ دل
یہ میرے شوق کی توہین یا گہرائی ہے
:علی احمد
کیا کریں ہمیں بھی وہ حسن زمانہ دیکھتا ہے
جو مصور ہے اسی کی یہ نقش آرائی ہے
:شاعر
تیرے الفاظ میں لذت ہے کہ شراب میں ہے
ڈبو دینے میں کیا تیری یہ ناخدائی ہے
:علی احمد
نہیں یہ شوق نہیں، درد ہے کہ رات آئی ہے
ماہیِٔ بے آب کی کہاں اب تک رسائی ہے
:شاعر
خاص رنگوں سے مصور جو بنائے کوئی نقش
ہم نے تو نقشِ محبت کی سزا پائی ہے
:علی احمد
نقشِ اقبال سکھاتی ہے مجھ کو روانی
جانے کیوں پھر میرے تقدیر سے بن آئی ہے
:شاعر
نقشِ اقبال سے سیکھو کبھی گرمئِ نفس
خودی میں روحِ بغاوت اور دانائی ہے
:علی احمد
میرے دل کے مکیں کا گھر ہے روشن
میں ہوں تنہا میرے رفتار کی تنہائی ہے
:شاعر
ہاں فقط ایک کبوتر کا پر ہی زخمی تھا
پھر یہ کس کی نغمہ سرائی ہے
:علی احمد
عشق کی عشق کی آواز ہے یہ
کیا خبر تجھکو یہی حسن کی زیبائی ہے
:شاعر
اب معطر کو ہے سونا کہ ادب نغمۂِ درد
روشنی دے کے شبِ غم کی خبر لائی ہے
کیا میرے نغمۂِ تنہائی کو سمجھتے ہو تم
میں نے بے لوث محبت کی قسم کھائی ہے

Leave a Reply