Literature,  Urdu

مکالمۂِ ذات

خُدایا!چھوڑ دوں کیسے؟

اُسکا دل توڑدوں کیسے؟

وہی میری محبت ہے

وہی تو میری چاہت ہے

وہی تو زندگی ہے

پھول کی مانند کلی ہے وہ

وہی اِحساس ہے میرا

محبت کس کو کہتے ہیں

الٰہی کچھ تو جانوں میں

میرے انجان جزبوں کو

کہیں تو آشنائی ہو

کہیں تو غم نوائی ہو

کہیں تو اَن کہی باتیں

سُنائی دیں اُسے کچھ پل

کہیں دل کی دوا تو ہو

کوئی اک بے خطا تو ہو

کوئی تو شام کا قیدی بنے

اُجالوں سے جو ڈرتا ہو

خُدایا! روشنی مانگی نہیں میں نے

اُجالوں سے میں ڈرتا ہوں

خُدایا! زندگی کو موڑ دے ایسا۔۔۔

مجھے بیگانے لگتے ہیں

جو مجھ سے پیار کرتے ہیں

زمانے کے سبھی رشتے

فریبی لگتے ہیں مجھکو

خُدایا! مجھ سے میری ذات کو سکوں دے دے

جہاں کو ضبط سے بڑھ کے میرا جنون دے دے

Leave a Reply