kalam e muattar
Urdu,  ادب,  شاعری

نغمۂِ درد وہی شورشِ پروانہ وہی

نغمۂِ درد وہی شورشِ پروانہ وہی
دل میرا، سوز وہی، محفل و میخانہ وہی
کچھ تغیر کیوں نہیں، سازشِ زمانہ وہی
خوئے باغیانہ وہی، ظُلم کا تازیانہ وہی
دل گرفتہ بھی اگر ہے تو بغاوت کے امیں
ساغر و جام وہی، ساقی و میخانہ وہی
آہ! بدلتا ہی نہیں کیوں یہ غمہائے دوراں
ساز وہی، راز وہی اور نازِ زمانہ وہی
یہ بغاوت ہے میری، رقصِ غلامی ہے تیری
دار وہی، خار وہی، زندان و ویرانہ وہی
یوں تماشا ہی سہی، امروز و فردا بھی وہی
کیا سرفروشوں میں لغزشِ پروانہ وہی

Leave a Reply