Urdu,  ادب,  شاعری

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا

کاغذی ہے پیر ہن ہر پیکرِ تصویر کا

کاوِ کاوِ سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ

صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

جذبہ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہیے

سیۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے

مُدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا

بسکہ ہو ں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیرِ پا

موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

مرزا اسد اللہ خان غالبؔ

Leave a Reply