Literature,  Urdu

نقابِ زیست

تم جو گئے تو زندگی بھی میری ہار میں ہے
میں بیچتا ہوں دل اپنا تو بھی بازار میں ہے
خزاں کا موسم بہاروں کے بیچ آکے چلا
سُنا ہے پیار کا موسم اِسی بہار میں ہے
میں کھو گیا ہوں خُدا کے اِس بھری محفل میں
میں جانتا ہوں کوئی میرے انتظار میں ہے
چمن کی زندگی ہے کشمکشِ آتش میں
چمن کی ابرو آتش کے کاروبار میں ہے
کسے پتا یہ زمانے کی کشاکش کس لیے
جامِ آتش بھی محبت کے اعتبار میں ہے
زمانہ روٹھ گیا مجھ سے، کیا خبر مجھکو
صلح کرانا تو ظالم کے اختیار میں ہے
تو چھوڑ محفلِ یاراں کو معطر کا دل
درِ میخانہ مئے باغی کے خُمار میں ہے
   

Leave a Reply