Blog Literature Urdu

پیسہ

یہی ہے صاحبِ خانہ جو سکندر خرید لیتی ہے

سنا ہے میں نے خشک و تر خرید لیتی ہے

حسنِ یوسف کبھی چادرِ زہرا

سنا کیا تو نے مسلماں! یہ قلندر خرید لیتی ہے

تتلیاں شوخ اداؤں سے دل کو چھیڑیں تو

پھر یہ ظالم ہے ان کے پر خرید لیتی ہے

پہلے دیکھے تھے غزنوی بھی بت فروشوں میں

آج یہ ظلم کے بت گر خرید لیتی ہے

آپ کہتے ہیں، خودی ہے فضول شے

کہ یہ ظالم تو پیمبر خرید لیتی ہے

یہ شورشِ باغی، یہ بغاوت کی شراب

سنا نہ میں نے یہ بوذر خرید لیتی ہے

ہوس پرستوں نے باور کرایا ہے مجھکو

یہ بغاوت کی ہر لہر خرید لیتی ہے

کیا محبت بھی خریدوگے کاغذوں سے تم

کیا یہ چمن کے معطر خرید لیتی ہے

Last Updated on April 15, 2021 by ANish Staff

Leave a Reply