Blog Literature Urdu

مجھ سے روٹھے ہیں سب پتھر کے خدا

مجھ سے روٹھے ہیں سب پتھر کے خدا

کیسے جیتے ہیں اب آذر کے خدا

ایک کو خوش رکھوں تو پھر اور خفا

کیسے راضی ہونگے اِدھر کے خدا

میرا خوں پی کے پجاری ہوئے سیر

کیسے خوش رکھوں میں مندر کے خدا

پہلے روٹھتے تو منا لیتا اُنہیں

آج منتے نہیں یہ گھر کے خدا

کسی کا پیٹ تو کسی کی پیٹھ خالی ہے

پیٹ بھرے ہیں اہلِ نظر کے خدا

میں ہوں اس بستی کا عاجز بندہ

کیسے سمجھاؤں میں شہر کے خدا

تمہی سمجھاؤ سب بتوں کو خدا

اِن غلاموں کے شہر میں معطر کے خدا

Leave a Reply

Ready to get started?

Are you ready
Get in touch or create an account.

Get Started