Sale!

اشکِ بوذر افسانے

$22.00 $20.00

  • File Size: 5.0 MB
  • Length: 200 pages
  • Publisher: ANish Publications
  • Publication Date: November 12, 2019
  • Language: Urdu
  • Author: Muattar Ali

Out of stock

Description

معطر علی کے افسانوی مجموعے کا نام ہے۔ جس میں مشہور افسانہ اشکِ بوذر بھی شامل ہے۔ جس پر اس مجموعے کا نام رکھا گیا ہے۔ ممتاز افسانہ نگار اور ابھرتے ہوئے مصنف اور ادیب کے نظر اور قلم کے شہکار جاری ہیں۔ ہم ان سے فقط خیر کی ہی توقع کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اسی ۸۰ افسانے شامل ہیں۔ جن میں پاگل ہجوم، ی

می رقصم می نالم

بے داغ دامن

داغدار دل

نیم پاگل

ٹوٹے اور بکھرے آئینے

توبہ

مجرد

سنسان ساحل

تاریکی، خلا اور موت

دلچسپ فریب

عجیب مصور

لیلٰی میری داشتہ

تعاقب، پنجہ یا شکنجہ

کشتی

صداقت کا انتظار

رات میں بس ایک گونج

گدھ اور درنده

ہوسِ تن

عزت کی موت

اسیرِ محبت کا مقدمہ

جھیل، جنگل اور جیل

سماج کا شکنجه

بدلہ

رسمِ بیاباں

شہرتِ مذہبِ انسانیت

کتبہ

آنسو اور آثارِ قدیمہ

اخلاقیات کا سوال

تنگ نظر کا سرخ بخار

سمندر

دین و ایمان

طوفان

عوام کا دشمن

تاجر و سوداگر

درد، دیوانہ اور شاعر

گمراہ فلسفی

اندازِ باغی

 

قابلِ ذکرہیں۔ افسانے جو کہ اس مجموعے میں شامل ہیں اُنکی فهرست مندرجہ ذیل ہے۔ یہ افسانے آپ ایک ایک اور علیحدہ بھی خرید سکتے ہیں۔ اور مجموعہ بھی۔ ہم نے قارئین کے آسانی کے لیے دونوں طریقوں سے دئیے ہوئے ہیں۔ اگر آپ کو صرف ایک افسانہ پسند آیا اور آپ صرف اُسے خریدنا چاہتے ہیں تو ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ مجموعہ بنسبت الگ الگ افسانوں کے سستا پڑتا ہے۔

یہ افسانوی مجموعہ معطر علی کے افسانوں پر مشتمل دوسرا مجموعہ ہے۔ جن کی فہرست درجہ ذیل ہے

جلتا ہوا درد

اذیتِ روحِ ایشیا

صحرائی محبت

مور، بلبل اور گیدڑ

سوگِ وحشی

میں وحشی ہوں اس لیے نہیں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔ بلکہ اس لیے کہ میں تمہارے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں۔ ؎

آج قاتل کے مرنے پہ دوست

کرو، کرواؤ زمانے میں سوگ

تہذیب کے گولے

تم قتل تہذیب اور جمہوریت کے نام پہ کرتے ہو۔ جبکہ میں قتل مذہب اور اقتدار کے لیے تو پھر ہم دونوں ایک ہی سطح کے احمق ہیں۔ تم وحشی ہو میں جنگلی، تم میدانی ہو میں صحرائی، تم ہوائی ہو میں زمینی۔۔۔ تم نے ظلم کا قانون بنایا تاکہ ظلم کو آئینی جواز فراہم ہو۔ اور میں تیرے اس قانون کے بھینٹ چڑھا اور تمہارے آئین نے مجھے سڑکوں پر گھسیٹا۔۔۔

ایٹم بم

یہ اس گناہ کا نام ہے جسے انسانیت کو نیلامی سے بچانے کے لیے صفحہِ ہستی سے مٹانے کے لیے منظم منصوبہ بندی ہے۔

قانونِ وطن

قانون تو ہمیشہ مجرم بناتا ہے، پائمال کرتا ہے اور جب پکڑ لیتا ہے تو پھانسی بھی چڑھا دیتا ہے۔

خدمتِ زنجیر

قوموں کی خدمت تو ہمیشہ گمنام لوگوں نے کی ہے۔ نام نہاد بڑے تو فقط بکواس ہی کرتے رہے ہیں۔ زنجیریں تو درندوں کے لیے ہوتے ہیں مگر یہاں تو سب کے سب انسان پابندِ سلاسل ہیں۔

جنونی اور احمق

جنون ہی سے تو آذادی ملتی ہے۔ ایک باغی کو بقول تمہارے جنونی ہونا چاہیئے۔ ہم میں سے کون احمق ہے اور کون عاقل وقت بتائے گا۔

ماں اور بیٹا

میری ماں! آؤ پھر مجھے اپنی گود میں سُلا کر کہو: میرا۔بیٹا بڑا آدمی بنے گا۔

بیٹی اور باپ

میں نے خدا سے ایک بیٹی مانگی ہے دعا کرو کہ وہ عطا کرے۔

جنم دن مبارک ہو

جنم دینا تو آساں ہے مگر تربیت تو فقط ماں ہی کر سکتی ہے۔

آزادی و غلامی

تم کس آذادی کی بات کر رہے ہو اور وہ بھی غُلاموں کی بستیوں میں جن کے ضمیر مر چکے ہیں۔

پتھر دل کا رحم

جب پتھر دل مسکراتے ہیں تو سمجھو طوفان آنے والا ہے۔ رحم کی اپیل ظالم سے نہیں مظلوم سے کرو کیونکہ وہ انتقام کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

سرخ انقلاب

ایک خونی انقلاب جس میں خُون کی ندیاں بہتی ہیں۔

سیاہ انقلاب

زرد انقلاب

سفید انقلاب

دھوکہ

سانس کا بھروسہ

نفرتِ پاتال

بزدل کٹھپتھلی

مدد

ہیرو

آخری حملہ

آخری حملہ شیر کا انتہائی خطرناک ہوتا ہے۔ تم صحرائی شیر ہو اپنا لہو ان مشینی انسان نما درندوں کو دکھا دو۔

لاش

وہ لاش جس کی شناخت تمہاری سانئس اور قانون نہ کر پائی میں جانتی ہوں کہ وہ کون ہے۔

موت و آزادی

موت بھی مکمل آذادی کی ایک قسم ہے۔ پھر اس کے بعد تمہارا قانون معطل ہو جاتا ہے۔

کھیل

کھیل اور تماشا لازم اور ملزوم ہیں۔

رقصِ دیوی

رقص بھی عجیب چیز ہے یہ کسی کو بھی تکلیف نہیں دیتی سوائے اس کے جو اس میں شامل ہو۔ کاش میں دیوی دیوتاؤں پر یقین رکھتا۔ نازش ایک دیوی تھی اور رقاصہ۔۔۔

پاگل ہجوم

گداگر جی حضور

مجرم کی پھانسی

می رقصم می نالم

بے داغ دامن

داغدار دل

نیم پاگل

ٹوٹے اور بکھرے آئینے

توبہ

مجرد

سنسان ساحل

تاریکی، خلا اور موت

دلچسپ فریب

عجیب مصور

لیلٰی میری داشتہ

تعاقب، پنجہ یا شکنجہ

کشتی

صداقت کا انتظار

رات میں بس ایک گونج

گدھ اور درنده

ہوسِ تن

عزت کی موت

اسیرِ محبت کا مقدمہ

جھیل، جنگل اور جیل

سماج کا شکنجه

بدلہ

رسمِ بیاباں

شہرتِ مذہبِ انسانیت

کتبہ

آنسو اور آثارِ قدیمہ

اخلاقیات کا سوال

تنگ نظر کا سرخ بخار

سمندر

دین و ایمان

طوفان

عوام کا دشمن

تاجر و سوداگر

درد، دیوانہ اور شاعر

گمراہ فلسفی

اندازِ باغی

سوالات

یہ کتاب کاغذ پر چھپی ہے؟

نہیں۔ یہ کتاب صرف پی ڈی ایف فائل میں دستیاب ہے۔

کیا اس ویب سائٹ کے علاوہ یہ کتاب کسی اور جگہ دستیاب ہے؟

جی نہیں۔ ابھی تک یہ صرف اسی ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ جیسے ہی کسی اور جگہ یہ دستیاب ہونگی تو ہم اپنے معزز قارئین کو آگاہ کرینگے۔

یہ کتاب کیسے خریدی جا سکتی ہے؟

جیسے ہی آپ ہمارے اکاونٹ میں فنڈز ٹراسفر کرتے ہیں۔ تو آپکو معلومات فراہم کرنی پڑتی ہیں۔ جیسے ہی آپ کی معلومات ہماری کسٹمر سروس کی طرف سے تصدیق ہوتی ہیں۔ تو آپ کو کتاب آپ کی فراہم کردہ ایمیل پر بھیج دی جاتی ہے۔

کتاب پاسورڈ کے ذریعے کیوں محفوظ کی گئی ہے؟

آن لائن پائریسی کی وجہ سے ہم اپنے، اپنے مصنفین اور معزز قارئین کی پرائیویسی کے پیشِ نظر ہر قاری کو اک نیا پاس ورڈ فراہم کرتے ہیں۔

یاد رکھئیے قارئین معطر علی کی تمام کتب صرف اور صرف ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ اگر آپ کو کہیں بھی اور جگہ سے ملیں تو وہ پائریٹ کاپی ہوگی جس کے کالٹی اور معیار کی ہم گارنٹی نہیں لے سکتے۔ جو کہ سائبر کرائم ہے اور سزا اور جرمانے کا باعث ہے۔ اس حوالے سے ہمیں آگاہ کریں تاکہ ہم گوگل یا کسی بھی دوسرے سرچ انجن کو رپورٹ کر کے اُس سٹور یا ویب سائٹ کے خلاف قانونی کاروائی کر سکیں۔ یاد رکھیں ہماری ہر کتاب ہر ایک قاری کے لیے ایک الگ پاسورٹ کے ذریعے بھیجا جاتا ہے۔ جو کہ عمر بھر کے لیئے اُن کے لیے فری ہوتا ہے۔ اگر کوئی بھی قاری جان بوجھ کے اپنا پاسورڈ لیک کر دے تو وہ زندگی بھر کے لیئے ہماری سٹور سے بین ہو جاتا ہے۔ اور وہ پھر ہمارے سٹور پر کوئی بھی چیز خرید یا بھیچ نہیں سکتا۔ لہذا اپنے پاسورڈ کو سنبھال کے رکھیں اور کسی غیر متعلقہ شخص سے اسے شیئر نا کریں۔ ایک بار آپ کتاب لے لیں تو وہ زندگی بھر آپکا رہے گا۔ جب بھی آپ وہ دوبارہ پڑھنا چاہیئں گے تو اپنے بل کی تفصیلات بتا کر اُس کتاب کی نئی کاپی آپ کو ارسال کر دی جائے گی۔ کتاب گُم ہونے یا پاسورٹ بھول جانے کی وجہ سے پریشان نہ ہوں۔